نئی دہلی8اکتوبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) سماج وادی پارٹی کی سابق ترجمان پنکھڑی پاٹھک کے اوپر حملہ کیا گیا ہے۔پنکھڑی پاٹھک نے الزام لگایا کہ بجرنگ دل کے ارکان نے ہفتہ کو ان پر حملہ کیا۔ اس تناظر میں پنکھڑی پاٹھک نے ٹویٹ کر کے کہا کہ بجرنگ دل نے حملہ کیا ہے، پہلے انہوں نے ہمیں بھڑکانے کی کوشش کی لیکن جب ایسا نہیں ہوا تو انہوں نے حملہ کر دیا۔ حملہ پہلے سے ہی منصوبہ بند تھا ۔کیا اترپردیش پولیس، یوگی آدتیہ ناتھ اور ڈی جی پی میں ان لوگوں کوگرفتار کرنے کی ہمت ہے۔ واضح ہو کہ گزشتہ دنوں پنکھڑی پاٹھک نے سماج وادی پارٹی کے ترجمان عہدے سے اپنا ناطہ توڑ لیا تھا۔ انہوں نے اترولی سے لوٹ کر صحافیوں کو بتایا کہ ان پر اور ان کی ٹیم کے کم از کم تین ارکان پر حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ بجرنگ دل کارکنوں نے کیا، جس میں ہم زخمی ہو گئے۔ حملہ کی موجودگی میں پولیس کیا گیا ہے اور ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ پنکھڑی پاٹھک نے کہا کہ ہمیں دوبارہ اترولی نہ آنے کی دھمکی دی گئی۔ ہم اس معاملے کی اطلاع علی گڑھ پولیس کو نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ہمیں اس پر بھروسہ نہیں رہ گیا۔ ہم دہلی واپس آ رہے ہیں اور آگے کی کارروائی وہیں طے کریں گے۔پنکھڑی پاٹھک نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ لکھا کہ آج ہندوتو کو قریب سے دیکھا ہے، جب اپنی سیاست کے لئے ایک بھگوادھاری بھیڑ نے ایک ہندو لڑکی پرکئی ہندو لڑکوں پر جان لیوا حملہ کیا تھا ان کا ہندوتو ان کی سیاست تک محدود ہے۔ باقی ہر ہندو ان کے لئے بس شکار ہے جس کا قتل سیاسی فائدے کے لئے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا علی گڑھ پولیس فرضی انکاؤنٹر میں شہید مستقیم اور نوشاد کے خاندانوں سے ملنے کا ہمارا مقصد صرف یہی تھا کہ ہم پتہ لگا سکیں کہ انسانی بنیاد پر انہیں کسی جبر کا سامنا تو نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی بار کوشش کرنے کے بعد ضلع کا کوئی سینئر پولیس افسرجواب کے لیے دستیاب نہیں ہوپایا۔دریں اثنا، وشو ہندو پریشد (مغربی یوپی) کے ایک سینئر عہدیدار نے الزامات کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ واضح ہو کہ بجرنگ دل وشو ہندو پریشد کا یوتھ سیل ہے۔